INFINIX XCLUB-INFINIX MOBILITY COMMUNITY OFFICIAL FORUM

 找回密码
 Register
搜索
热搜: ABC XYZ
查看: 207|回复: 3

انسان کچھ بھی نہیں بس مٹی کا پتلا ہے۔

[复制链接]

302

Threads

747

Posts

1053

Xpoints

Content Partner

Rank: 8Rank: 8

X'Club badge exclusive for Pakistanpost star1sign star1post star220Msign star2sign star3

发表于 2019-11-15 16:13:53 来自手机 | 显示全部楼层 |阅读模式
[br][br]مائیکل جیکسن نے امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں، یہاں تک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل و صورت، جلد، نقوش اور حرکات و سکنات بدل گئیں۔ سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اور نسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا۔ اس نے 1987ء میں بیڈ کے نام سے اپنی تیسری البم جاری کی، یہ گورے مائیکل جیکسن کی پہلی البم تھی، یہ البم بھی کامیاب ہوئی اور اس کی تین کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس البم کے بعد اس نے اپنا پہلا سولو ٹور شروع کیا۔ وہ ملکوں ملکوں، شہر شہر گیا، موسیقی کے شو کئے اور ان شوز سے کروڑوں ڈالر کمائے۔ یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کو بھی شکست دے دی۔ اس کے بعد ماضی کی باری آئی، مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کر دیا۔ اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔ اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے، اس نے کرائے پر گورے ماں باپ بھی حاصل کر لئے اور اس نے اپنے تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔[br][br] ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلا ہوتا چلا گیا وہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔ اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی بھی کر لی۔ اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دیئے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔ ڈیبی رو کے بطن سے اس کی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی۔اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہو گئی، اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی۔[br][br]لہٰذا اب اس کی آخری نفرت یا خواہش کی باری تھی۔ وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔ مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئے دلچسپ حرکتیں کرتا تھا۔ مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا، وہ جراثیم، وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا۔ وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے۔ یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے، اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا، اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں، گردوں، آنکھوں، دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا، یہ ڈونر تھے جن کے تمام اخراجات وہ اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کر دینا تھے۔ چنانچہ اسے یقین تھا وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہے گا، لیکن پھر 25جون کی رات آئی، اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی، اس کے ڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئر ڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا۔ یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کیلئے کوشش کرتے رہے، لیکن ناکام ہوئے تو یہ اسے ہسپتال لے گئے اور وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، جو ننگے پاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا، جو کسی سے ہاتھ ملانے سے پہلے دستانے چڑھا لیتا تھا، جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25 برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا تھا۔ وہ شخص 50 سال کی عمر میں صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔ اس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کر گئی۔[br][br]مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں آٹھ لاکھ لوگوں نے پڑھی، یہ گوگل کی تاریخ کا ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25 منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔ مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا، وہ سر سے گنجا تھا، اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، اس کے کولہے، کندھے، پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔ وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا، چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ انجیکشنز، یہ احتیاط اور یہ ڈاکٹرز بھی اسے موت سے نہیں بچا سکے اور وہ ایک دن چپ چاپ اُس جہان شفٹ ہو گیا جس میں ہر زندہ شخص نے پہنچنا ہے اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔[br][br]مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے، انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا کوئی فرعون وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔ وہ قبر کو شکست نہیں دے سکتا، لیکن حیرت ہے ہم مائیکل جیکسن کے انجام کے بعد بھی خود کو فولاد کا انسان سمجھ رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے ہم موت کو دھوکہ دے دیں گے، ہم ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہیں گے۔

本帖子中包含更多资源

您需要 登录 才可以下载或查看,没有帐号?Register

x
Asim manj
回复

使用道具 举报

2915

Threads

110K

Posts

110K

Xpoints

Content Partner

Rank: 8Rank: 8

ACTIVE STARX'Club badge exclusive for Pakistanpost star1sign star1post star2sign star2post star3sign star3post star4post star5sign star4

发表于 2019-11-15 16:50:20 来自手机 | 显示全部楼层
بہت زبردست تحریر ہے
回复

使用道具 举报

2915

Threads

110K

Posts

110K

Xpoints

Content Partner

Rank: 8Rank: 8

ACTIVE STARX'Club badge exclusive for Pakistanpost star1sign star1post star2sign star2post star3sign star3post star4post star5sign star4

发表于 2019-11-15 16:50:30 来自手机 | 显示全部楼层
{:16_21:}{:16_24:}
回复

使用道具 举报

302

Threads

747

Posts

1053

Xpoints

Content Partner

Rank: 8Rank: 8

X'Club badge exclusive for Pakistanpost star1sign star1post star220Msign star2sign star3

 楼主| 发表于 2019-11-15 18:26:10 来自手机 | 显示全部楼层
شکریہ
回复

使用道具 举报

您需要登录后才可以回帖 登录 | Register

本版积分规则

Infinix Official Website|Infinix official mall|infinix Note 4|INFINIX XCLUB-INFINIX MOBILITY COMMUNITY OFFICIAL FORUM

GMT+8, 2020-05-29 14:49 , Processed in 0.062450 second(s), 21 queries .

Powered by Discuz! X3.4

© 2001-2017 Comsenz Inc.

快速回复 返回顶部 返回列表